Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کاروبار کے لئے رقم قرض لینے کی بجائے سامانِ تجارت ادھار خریدنا

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ نومبر 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اپنے دوست سے کاروبار کے لیے کچھ رقم لینا چاہتاہوں اور دوست کو اپنی رقم پر کچھ نفع بھی چاہئے ، جس کے لیے ہم یہ طریقہ اپنانا چاہتے ہیں کہ مجھے جو مال چاہئے، مثلاً: بچپن کا سامان، چو لہے ، چمٹیاں وغیرہ درکار ہیں، تو میرا دوست مارکیٹ سے 50لاکھ روپے کامال خرید کر مجھے قیمت خرید بتا کر 52لاکھ روپے میں اُدھار پر بیچ دے گا، اس طرح ان کو 2 لاکھ روپے نفع مل جائے گا اور مجھے جو مال در کار تھا، وہ مل جائے گا۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ کیا ہم یہ طریقہ اپنا سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ طریقہ شرعاً جائز ہے، اس میں حرج نہیں، کیونکہ یہ ایک قسم کی خرید و فروخت (بیج مرابحہ ) ہے ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جب آپ دوست سے ادھار میں مال خریدیں گے ، تو آپ کا دوست پہلے اس مال پر خود یاد وست کا وکیل قبضہ کرلے، پھر آپ کو بچے ، قبضہ کرنے سے پہلے نہیں بچ سکتا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ سودا کرتے ہوئے ادھار کی مدت طے کر لی جائے اور ساتھ ( جرمانے وغیرہ کی) کوئی ناجائز شرط نہ لگائی جائے۔ اگر مدت معین نہ کی، یا ساتھ جرمانے وغیرہ کی کوئی ناجائز شرط لگائی، تو اس کی وجہ سے یہ عقد (Contract)فاسد اور ناجائز ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.