Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بزرگان دین کے لئے نذر ماننا کیسا ؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بزرگانِ دین کے لئے نذر ماننا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے کہ نذر اللہ پاک کے لئے خاص ہے، تو کیا غیر اللہ کی نذر نہیں مان سکتے ؟

Answer (beginning)

نذر اور منت دو طرح کی ہوتی ہے : (1) نذر شرعی اور (2) نذر عرفی، نذر شرعی یہ ہے کہ اللہ پاک کے لئے کوئی ایسی عبادت اپنے ذمسلازم کر لینا، جو لازم نہیں تھی، مثلا یہ کہنا کہ میرا یہ کام ہو جائے، تو میں 100 نفل پڑھوں گا وغیرہ نذر شرعی کی کچھ شرائط ہوتی ہیں اگر وہ پائی جائیں تو نذر کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور پورانہ کرنے سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔ اور نذیر عرفی کا معنی ، نذرانہ اور ہدیہ ہے، مثلاً انبیاء کرام اور اولیاء عظام کے لیے اس طرح نذر ماننا کہ اگر میر افلاں کام ہو جائے، تو میں فلاں بزرگ کے نام پر کھانا کھلاؤں گا، یہ نذر عرفی ہے ، اسے پورا کرناواجب تو نہیں،البتہ بہتر ہے کہ اسے بھی پورا کیا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.