Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مضاربت میں نقصان کیا ہے اور اس کے اصول کیا ہیں؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کاروبار کرنے کے لئے بکر کو پانچ لاکھ روپے دے اور طے یہ کرے کہ نفع ہمارے در میان آدھا آدھا تقسیم ہو گا اور نقصان میں بھی ہم دونوں برابر کے ہی شریک ہوں گے تو کیا اس صورت میں یہ کاروبار کرنا درست ہے ؟ اور اس سودے میں نقصان کب رب المال ( Investor) کی طرف لوٹے گا؟

Answer (beginning)

اولا تو یہ یادر ہے کہ ایک شخص کی رقم ہو اور دوسرے کی فقط محنت ہو تو شرعی اصطلاح میں کاروبار کے اس طریقہ کار کو ” مضاربت “ کہتے ہیں۔ مضاربت میں نقصان کا اصول یہ ہے کہ مُضارب فقط اپنی کو تاہی سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے مطلقا نقصان کی شرط اس کے ذمہ لگانا درست نہیں کہ یہ شرط ہی سرے سے باطل ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ” مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدی و دست درازی و تضیع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحب مال کی طرف رہے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.