Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جو شخص امام کو پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں پائے تو نماز میں کیسے شامل ہو؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور امام صاحب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں ہوں تو اس شخص کو پہلی رکعت تو نہیں ملی، جس کی وہ قضا امام کے سلام کے بعد کرے گا، سوال یہ ہے کہ کیا دوسرے سجدے میں امام کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے، اگر شامل ہو گیا تو جو ایک سجدہ رہ گیا ہے وہ سجدہ بھی اس کو کرنا ہو گا یا ایک سجدہ کر کے امام صاحب کے ساتھ کھڑا ہو جائے ؟
Answer (beginning)
جب کوئی شخص امام کو دوسرے سجدہ میں پائے تو نماز میں ملنے کا طریقہ یہ ہے کہ قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہے پھر سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہے اور سجدہ میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ اس صورت میں مقتدی پر اس سجدہ کی قضاء لازم نہیں ہو گی جو امام پہلے کر چکا ہے، بلکہ رہ جانے والی رکعت کو جب وہ ادا کرے گا تو اس رکعت کے سجدے بھی ادا ہو جائیں گے۔ اگر کوئی شخص اس موقع پر امام کے کھڑے ہونے کا انتظار کرے پھر نماز میں شامل ہو تو ایسا کرنا گناہ نہیں البتہ مستحب یہ ہے کہ امام جس حالت میں بھی ہو اس کے ساتھ شریک ہوا جائے، انتظار نہ کیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.