Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آہستہ الحمدللہ کہنے پر چھینک کا جواب دینا

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہار شریعت میں لکھا ہے کہ اگر چھینکنے والے نے حمد نہیں کی تو جواب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بعض اوقات چھینکنے والا شخص ہلکی آواز میں الحمد للہ کہتا ہے ، جس کی آواز حاضرین کو نہیں آتی، اس وجہ سے حاضرین کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس چھینکنے والے نے الحمد للہ کہا ہے یا نہیں کہا تو کیا اس صورت میں چھینک کا جواب دینا واجب ہو گا ؟

Answer (beginning)

چھینک کا جواب دینا اس وقت واجب ہوتا ہے کہ جب چھینک کے ساتھ ساتھ چھینکنے والے سے حمد ( الحمد للہ ) بھی سنی جائے، لہذا چھینکنے والے نے ہلکی آواز میں الحمد للہ کہا اور حاضرین نے نہیں سنا، تو جواب دینا واجب نہیں، البتہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب یہ معلوم نہ ہو کہ چھینکنے والے نے حمد کی ہے یا نہیں کی تو پھر یوں مشروط جواب دے دینا چاہیے کہ اگر تو نے حمد کی ہے تو يَرْحَمُكَ الله واضح رہے اگر کوئی شخص بہت سارے لوگوں کی موجودگی میں چھینکا اور الحمد للہ کہا، تو سننے والوں میں سے ایک نے بھی جواباً يَرْحَمُكَ الله کہہ دیا تو سب سننے والوں کی طرف سے واجب ادا ہو جائے گا، اب سب کو جواب دینا واجب نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.