Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اجرت طے کئے بغیر نکاح پڑھانا کیسا ؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اجرت ملے کئے بغیر نکاح پڑھانا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

جس کام کے کرنے پر اجرت کا لین دین معروف ہو یا کام کرنے اور کروانے والے کے ذہن میں یہ بات موجود ہو کہ اُجرت کا لین دین ہو گا اس میں اجرت طے کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ اجارہ ہے اور اجارے میں اجرت طے نہ کرنا نزاع کا باعث بن سکتا ہے جس سے شریعتِ مطہرہ نے منع فرمایا ہے۔ ہمارے یہاں جو نکاح پڑھائے جاتے ہیں ان میں عموما یہی صورت ہوتی ہے کہ نکاح پڑھانے والے کے ذہن میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے کہ کچھ نہ کچھ ملے گا اور پڑھوانے والا بھی جانتا ہے کہ کچھ نہ کچھ دینا ہو گا تو یہ اجارہ ہی ہے لہذا اگر عرف میں اجرت متعین نہ ہو تو پھر فریقین کا پہلے سے طے کرناضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.