Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تکلیف کی وجہ سے سجدے میں ناک کی ہڈی نہ لگانا کیسا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ناک پر ایک دانہ نکلا ہے جو کافی تکلیف دہ ہے اور بالخصوص سجدے کی حالت میں ناک کی ہڈی لگانا بہت تکلیف کا باعث ہے، تو کیا میں بغیر ناک کی ہڈی لگائے سجدہ کر سکتا ہوں، اس سے میری نماز ہو جائے گی، نیز اس تکلیف کی وجہ سے جو نمازیں میں بغیر ناک کی ہڈی لگائے پڑھ چکا ہوں ان نمازوں کا کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جبکہ آپ کے لئے سجدے میں ناک کی بڑی لگانا تکلیف کا باعث ہے ، تو اس صورت میں سجدے میں ناک کی ہڈی لگائے بغیر بھی آپ کی نماز بلا کراہت ہو جائے گی اور جتنی نمازیں آپ نے اس تکلیف کی وجہ سے بغیر ناک کی ہڈی لگائے پڑھیں وہ بھی ہو گئیں، البتہ جب کوئی عذر نہ ہو تو ناک کی ہڈی زمین پر جمانا واجب ہے، اس کے بغیر نماز مکروہ تحریمی ہو گی، اس نماز کو لوٹانا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.