Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوہ ( غیر حاملہ ) اپنی ساس کے جھگڑے کی وجہ سے عدت کا بقیہ حصہ اپنے میکے گزار سکتی ہے ؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت (غیر حاملہ ) جس کے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی ساس اس سے جھگڑا کرتی ہے تو کیا وہ عورت اپنی بقیہ عدت اپنے میکے میں گزار سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس بیوہ عورت کا اپنے میکے میں عدت گزار نا جائز نہیں ہے بلکہ اسے اسی مکان پر ہی عدت پوری کرنا فرض ہے جہاں اسے شوہر نے رکھا ہوا تھا۔ کیونکہ انتقال سے قبل شوہر نے عورت کو جس مکان میں رکھا ہو بعد وفات عورت کا اسی مکان میں عدت پوری کرنا فرض ہوتا ہے اور بیوہ حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہوتی ہے۔ اس دوران اس کے لیے بغیر عذر شرعی وہ مکان چھوڑ کر دوسری جگہ میں عدت گزار نا جائز نہیں ہوتا اور ساس کا اس سے جھگڑا کرنا کوئی عذر شرعی نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.