Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دکاندار کا اپنی مرضی سے زیادہ سامان دینا کیسا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دکاندار اگر اپنی مرضی سے سامان میں کچھ زیادتی کر دے، تو کیا وہ زیادتی میرے لیے حلال ہو گی ؟ مثلاً میں نے دکاندار سے 3 کلو چاول خریدے لیکن دکاندار 3 کلو چاول دینے کے بجائے اپنی مرضی سے مجھے 3 کلو 10 گرام چاول دیتا ہے یعنی 10 گرام زیادہ، تو کیا یہ 10 گرام چاول میرے لئے حلال ہوں گے ؟
Answer (beginning)
خریدار کا اپنی رضامندی سے چیز کی طے ہونے والی قیمت میں اضافہ کرنا، یونہی بیچنے والے کا اپنی مرضی سے گاہک کو سامان میں اضافہ کر کے دینا شرعاً جائز ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے وہ اضافی چاول لینا حلال ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”مشتری نے بائع کے لیے ثمن میں کچھ اضافہ کر دیا یا بائع نے مبیع میں اضافہ کر دیا، یہ جائز ہے 66 ۔“ (بہار شریعت، 750/2) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الان اهلیت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.