Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقتدی التحیات مکمل پڑھنے کے بعد امام کی اتباع کرے

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام اگر قعدہ اولی میں مقتدی کے تشہد مکمل پڑھنے سے پہلے کھڑا ہو جائے یا قعدہ اخیرہ میں مقتدی کے تشہد مکمل پڑھنے سے پہلے سلام پھیر دے تو دونوں صورتوں میں مقتدی پر تشہد مکمل پڑھنالازم ہے یا مکمل کئے بغیر فوراً امام کی اتباع کرناضروری ہے ؟

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کی رُو سے نماز کے فرائض و واجبات میں بغیر کسی تاخیر کے امام کی اتباع کرنا واجب ہے ، لیکن اگر امام کی اتباع کرنے میں کسی واجب کا ترک لازم آتا ہو تو وہاں مقتدی کے لئے حکم یہ ہوتا ہے وہ پہلے اس واجب کو ادا کرے پھر امام کی اتباع کرے، اور چونکہ تشہد کا مکمل پڑھنا بھی واجب ہے لہذا دریافت کی گئی صورت میں امام اگر قعدہ اولیٰ میں مقتدی کے تشہد مکمل پڑھنے سے پہلے کھڑا ہو جائے تو اسے حکم ہے کہ پہلے تشہد مکمل کرے پھر کھڑا ہو کر امام کی اتباع کرے، یونہی اگر قعدہ اخیرہ میں مقتدی کے تشہد مکمل پڑھنے سے پہلے ہی امام نے سلام پھیر دیاتو مقتدی پہلے تشہد (عبدہ ورسولہ تک) مکمل کرے پھر سلام پھیرے، اور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.