Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لاٹری کے کارڈ اور کوپن کی خرید و فروخت

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر 2022

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ مشتمل (1) بعض دکاندار ایک خاص قسم کی لاٹری بیچتے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس میں ایک کارڈ کئی کو پسنز پر ہوتا ہے ، گاہک ایک کو پن کو سکر بیچ کرنے کے پانچ روپے ادا کرتا ہے، بسا اوقات تو مخصوص مقدار میں اس کے زائد پیسے نکل آتے ہیں جو دکاندار نے اپنی طرف سے ادا کرنے ہوتے ہیں اور بسا اوقات کو پن بالکل خالی ہوتا ہے اور گاہک کے پیسے دکاندار کے پاس چلے جاتے ہیں، ایک کارڈ کے تمام کو پنز جب بک جائیں تو آخر پر دکاندار کو تقریباً ایک سو پچاس روپے کا نفع ہوتا ہے اور جن کے کو پن خالی نکلے ہوتے ہیں ان کے پیسے ضائع چلے جاتے ہیں اب شرعی رہنمائی فرمادی جائے کیا ایسی لاٹری کار کھنا اور بیچنا جائز ہے ؟ (2) اگر ایسی لاٹری بیچنانا جائز ہے تو جو دکان دار ایسی لاٹری بیچتا رہا ، یا جن لوگوں نے ایسی لاٹری کو خریدا ان کے لئے کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

(1) لاٹری کی جس صورت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ شرعا نا جائز و حرام ہے، کیونکہ یہ قمار یعنی جوئے پر مشتمل ہے اور جو اثر عاناجائز و حرام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس صورت میں یا تو کو پن سکر بیچ کرنے والے کے پانچ روپے ضائع ہو جائیں گے یا اسے دکاندار کی طرف سے مخصوص مقدار میں زیادہ پیسے ملیں گے ، اسی طرح دکان دار کو یا تو گاہک کے پانچ روپے مل جائیں گے یا اسے اپنی طرف سے زیادہ پیسے ادا کرنے پڑیں گے ، اسی چیز کا نام جو ا ہے ، جس کے حرام ہونے پر قرآن و سنت میں متعد د دلائل موجود ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.