Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا معتکف نماز جنازہ پرھانے باہر جا سکتا ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک مسجد میں امامت کرتا ہوں، ہمارے علاقے میں جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے ، تو اس کا جنازہ بھی میں ہی پڑھاتا ہوں، عمومی طور پر میرے علاوہ کوئی اور جنازہ پڑھانے کے لیے نہیں ہو تا۔ اب میرا ارادہ سنت اعتکاف میں بیٹھنے کا ہے ، لیکن علاقے والے کہہ رہے ہیں کہ اگر دوران اعتکاف کوئی شخص فوت ہو گیا، تو پھر اس کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا؟ لہذا آپ اعتکاف میں نہ بیٹھیں، کیونکہ نماز جنازہ کے لیے مسجد کے باہر الگ سے ایک میدان ہے اور یہ میدان نہ تو عین مسجد ہے اور نہ ہی فنائے مسجد ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا دوران اعتکاف میں جنازہ پڑھانے کے لیے باہر جا سکتا ہوں یا نہیں؟
Answer (beginning)
معتکف اگر نماز جنازہ کے لیے نکل جائے، تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ، چاہے کوئی اور پڑھنے ، پڑھانے والا موجود ہو یا نہ ہو۔ لہذا اگر آپ اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں، تو علاقے والوں کو چاہیے کہ جنازہ آنے کی صورت میں کسی اور شخص سے جنازہ پڑھوا لیں۔ جس مسجد میں آپ اعتکاف میں بیٹھنا چاہتے ہیں اگر اس میں فنائے مسجد ہے تو وہاں بھی جنازہ پڑھا جاسکتا ہے اور آپ کو وہاں تک پہنچنے کے لئے باہر سے ہو کر نہ نکلنا پڑ تا ہو تو آپ فنائے مسجد میں بھی جنازہ پڑھا سکتے ہیں لیکن یادر ہے کہ عین مسجد میں جنازہ جائز نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.