Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دھاگوں کا رواں حلق میں جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا ہوں، روزوں کے دوران بھی ہمیں کام کرنا پڑتا ہے، کام کرتے ہوئے جب مشینیں چلتی ہیں تو اس دوران دھاگوں کا باریک رواں بہت کثرت سے اُڑتا ہے اور بسا اوقات وہ باریک رواں منہ اور ناک کے ذریعے حلق میں بھی چلا جاتا ہے ، فیکٹری والے مکمل رمضان چھٹی بھی نہیں دے سکتے۔ یہ رہنمائی فرما دیں کہ بہت زیادہ احتیاط کرنے اور بار بار تھوکنے کے باوجو داگر ناک وغیرہ کے ذریعے باریک رواں حلق سے نیچے چلا جائے اور اس کا کچھ ذائقہ بھی حلق میں محسوس ہو تو کیا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کام کے دوران دھاگے کا بار یک رواں خود بخود حلق سے نیچے چلا جائے تو اس روئیں کے حلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اگر چہ روزہ دار ہو نا یاد بھی ہو ۔ ہاں کسی روزہ دار نے دھاگے کے اس روئیں کو جان بوجھ کر حلق تک پہنچایا تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا جبکہ اس کو روزہ دار ہونا یاد ہو ، اور اگر اُسے روزہ دار ہونا یاد نہ ہو تو پھر اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ نیز یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ روزوں کے دوران غبار والے مقام پر جانا اور کام کرناشر عاممنوع نہیں لہذ ابار یک رواں اُڑنے کے باوجود ، روزے کی حالت میں وہاں کام کرنا یا جانا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.