Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرعی احکام کی منّت کا حکم

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینه اگست 2021

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن بے پردگی کرتی تھی، اجنبی مردوں کے سامنے بال، گلا، کلائیاں وغیرہ کھلی رہتی تھیں، اس نے منت مانی کہ اگر میر افلاں کام ہو گیا تو میں اللہ کی رضا کیلئے شرعی پر وہ کروں گی۔ اس کا وہ کام بھی ہو چکا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ منت شرعی منت ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

عورت کا بال، کلائیاں، پنڈلیاں، گلا وغیرہ اجنبی مردوں سے چھپانا لازم ہے۔ ان اعضاء کی بے پر دگی کر نانا جائز و گناہ ہے۔ شرعی منت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس چیز کی منت مانی جائے وہ پہلے سے ہی شریعت کی طرف سے لازم نہ ہو ۔ یہاں چونکہ عورت پر پر وہ کرنا پہلے سے ہی شریعت کی طرف سے لازم ہے ، اس لئے یہ منت شرعی منت نہیں کہلائے گی، مگر پردے کی پابندی عورت پر بدستور لازم رہے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.