Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تصویر والی کرسی بنانا ، بیچنا اور استعمال کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2021

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل ایسی کرسیاں آرہی ہیں جن پر بیٹھنے اور ٹیک لگانے کی جگہ پر انسانی تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں، ان کرسیوں کو بنانا، بیچنا اور استعمال کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

ایسی کرسیاں جن پر بیٹھنے اور ٹیک لگانے کی جگہ پر انسان کی تصویر بنی ہوئی ہو تو ان کرسیوں پر بیٹھنے اور ٹیک لگانے میں شرعی طور پر حرج نہیں ہے کہ ان پر بیٹھنے اور ٹیک لگانے میں تصاویر کی توہین ہے ، تعظیم نہیں اور ان کرسیوں کو بیچنے اور خریدنے میں بھی حرج نہیں، لیکن ایسی کرسیاں بنانا، نا جائز و گناہ ہے کیونکہ جاندار کے چہرے کی تصویر بنانا مطلقاً حرام اور سخت گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.