Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹریول ایجنٹ کا کورونا کے ٹیسٹ پر کمیشن لینا کیسا؟
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمار اٹریول ایجنسی کا کام ہے ، اب جو مسافر بھی بیرونِ ملک سفر پر جاتا ہے، اس کے لئے کو رونا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوتا ہے، ہماری ایجنسی کے ذریعے بھی لوگ باہر ملک کا سفر کرتے ہیں تو چند لیبارٹریوں کی طرف سے ہمیں یہ پیشکش ملی ہے کہ اگر آپ اپنی ایجنسی کے تحت سفر کرنے والے مسافروں کو ہماری لیبارٹری میں ٹیسٹ کیلئے بھیجیں گے تو ہم آپ کو کچھ فیصد کمیشن دیں گے، یہ کمیشن بھی طے ہو گا، اور لیبارٹری والے ٹیسٹ کروانے والے سے کوئی اضافی چارجز بھی نہیں لیں گے ، بلکہ اس سے اتنے ہی چار جز وصول کئے جائیں گے جتنے دوسری لیبارٹری والے وصول کرتے ہیں۔ کیا ہمارا یہ کمیشن لینا جائز ہو گا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کمیشن لینا، جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمیشن، کام کرنے کی اجرت ہوتی ہے ، اس کے لئے کوئی ایسا کام کرناضروری ہوتا ہے جس کے بدلے میں اجرت کی صورت میں معاوضہ دیا جاسکے ، یہاں آپ صرف مشورہ دیں گے کہ اس لیبارٹری سے ٹیسٹ کروالو، تو اس موقع پر صرف مشورہ دینا کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کے بدلے میں اجرت کا استحقاق ہو تا ہو، اس لئے یہ کمیشن لینا جائز نہیں۔ البتہ اگر وہ لیبارٹری واقعی قابل اعتماد ہو ، اور آپ یا آپ کا نمائندہ کسٹمر کو لے کر لیبارٹری جائے ، یوں کچھ محنت کریں اور کمیشن بھی طے ہو تو اس محنت کے بدلے میں کمیشن لے سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.