Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی کمیٹی کی رقم دے کر اس پر نفع لینا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2021
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک جگہ کمیٹی ڈالی ہوئی ہے مگر کمیٹی چند مہینے بعد ملے گی، جبکہ اس کے دوست بکر کی ابھی کمیٹی کھل چکی ہے اور اس کے پاس رقم موجود ہے ، زید بکر سے کہتا ہے کہ اپنی کمیٹی کی رقم مجھے دے دو اور جب میری کمیٹی کھلے گی تو تم اپنی رقم واپس لے لینا، اس کے بدلے میں آپ کو تین ہزار روپے زیادہ ادا کروں گا، بر او کرم یہ رہنمائی فرمادیں کہ رقم او پر دینے کی وجہ سے اس معاملے کی کیا شرعی حیثیت ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں تین ہزار روپے مشروط نفع پر زید کا بکر سے کمیٹی کی رقم لینا، نا جائز و حرام ہے کیونکہ یہ قرض پر مشروط نفع ہے اور قرض پر مشروط نفع سود ہوتا ہے ، اور سود حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ زید اور بکر دونوں پر لازم ہے کہ اس طرح کا سودی معاملہ ہر گز نہ کریں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.