Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرد کو حلق کروانا ضروری ہے یا تقصیر بھی کروا سکتا ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2021
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اپنے وقت پر احرام سے باہر ہونے کے لئے مرد پر حلق کرانا ہی ضروری ہے یا قصر بھی کر سکتا ہے، اگر قصر کر اسکتا ہے تو افضل عمل کیا ہے نیز قصر کی مقدار کتنی ہے؟
Answer (beginning)
مرد کے لئے احرام سے باہر ہونے کے لئے حلق کرانا ہی ضروری نہیں ہے ، بلکہ اگر تقصیر کرانا ممکن ہو تو تقصیر کی بھی رخصت ہے، البتہ مرد کے لئے پورے سر کا حلق سنت اور افضل عمل ہے، اور تقصیر کے ذریعہ احترام سے باہر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم چوتھائی سر کے بالوں میں سے ہر بال انگلی کے ایک پورے کے برابر یعنی تقریبا ایک اچھی کاٹ لیا جائے ، حلق کی طرح تقصیر میں بھی یہی سنت ہے کہ پورے سر کے بالوں کی تقصیر کی جائے، تقصیر میں مرد اور عورت دونوں کے لئے یہی حکم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.