Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گیم زون کا کام کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2021

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی شخص گیم زون (Game zone) کھولنا چاہتا ہے جس میں لوگ آکر کمپیوٹر گیمز کھیلیں گے اور جتنی دیر بیٹھیں گے اس کے پیسے دیں گے۔ کیا یہ کمائی جائز ہے؟

Answer (beginning)

گیم زون سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز نہیں کیونکہ یہ لہو و لعب ہے اور ضروری نہیں کہ معتبر دنیاوی منفعت کے لئے ہی لوگ اسے استعمال کرتے ہوں پھر ایسی چیزوں میں میوزک اور غیر شرعی امور بھی لازم ہوتے ہیں لہذا ان کے لہو و لعب ہونے میں شک نہیں اور لہو و لعب کی اجرت جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: ( وَ مِنَ النَّاسِ مَن يُشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ) ترجمہ کنز الایمان : اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.