Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض واپس کرنے پر اس کا کچھ فیصد ریٹ مقرر کرنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2021
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی جانب سے کم اور متوسط آمدنی والے افراد کو گھر فراہم کرنے کے لئے ایک ہاؤسنگ فنانس اسکیم کا آغاز کیا گیا، جس میں مکان، فلیٹ کی تعمیر اور خریداری کے لیے تقریباً پینتالیس لاکھ (4500000) تک کا قرضہ دیا جارہا ہے اور واپسی کی مدت ہیں سال تک ہے اور اس قرضہ کا بارہ فیصد ریٹ مقرر کیا گیا ہے جو کہ قرضہ لینے والے کو اضافی ادا کرنا ہو گا۔ مثال کے طور پر کسی نے کمپنی سے دس لاکھ روپے لیے ہیں تو اسے ایک لاکھ بیس ہزار (120000 ) روپے اضافی دینے ہوں گے۔ اس اسکیم کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا ہم اس اسکیم کے تحت قرض لے سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
سوال میں بیان کردہ اسکیم ، سودی اسکیم ہے کہ کمپنی کی جانب سے مقرر کردہ اضافی بارہ فیصد ، قرض پر مشروط نفع ہے اور بحکم حدیث قرض پر مشروط نفع، سود ہے اور جس طرح سود لینا حرام ہے یو نہی حاجت شرعیہ کے بغیر سود، دینا اور سودی معاہدہ کرنا بھی حرام ہے لہذا اس اسکیم کے تحت قرض لینا جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص واقعی محتاج ہو یعنی اس کی وہ حاجت ایسی ہو کہ جسے شریعت بھی حاجت تسلیم کرتی ہو ، اور سودی قرض کے بغیر اس کا حل ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اسے حاجت کے مطابق سودی قرض لینے کی اجازت ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.