Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دورانِ عدت نوکری پر جانا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2021
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے کر اپنے گھر سے نکال دیا ہے اور وہ اپنے والد کے گھر عدت گزار رہی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ہندو عدت میں نوکری کرنے کے لئے جا سکتی ہے ؟ جبکہ ہندو کا والد اس کا خرچہ برداشت کر رہا ہے۔
Answer (beginning)
شرعی قوانین کی رو سے عورت کو طلاق سے قبل جس مکان میں شوہر نے رہائش دی ہو ، اسی میں عدت گزارنا واجب اور بغیر ضرورت شرعیہ اس گھر سے نکلنا حرام ہے، نیز عدت کے ختم ہونے تک سکونت اور نفقہ شوہر کے ذمے لازم ہے، اور اگر کسی ضرورت شرعی کی وجہ سے وہ عورت دوسرے مکان میں منتقل ہو جائے تو عدت کے معاملے میں اس مکان کے بھی وہی احکام ہوتے ہیں جو پہلے مکان کے تھے۔ بیان کی گئی صورت میں ہندہ پر اولاً شوہر کے گھر میں ہی عدت گزار نالازم تھا لیکن جب اسے شوہر نے گھر سے نکال دیا اور یہ اپنے والد کے گھر منتقل ہو گئی تو اب والد کے گھر کا عدت کے معاملے میں وہی حکم ہے جو شوہر کے گھر کا تھا یعنی بغیر ضرورت شرعیہ اس گھر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.