Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گوبر سے لکڑیاں بنا کر بیچنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2021

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل ایک کاروبار چلا ہوا ہے کہ گوبر سے لکڑیاں بنا کر انہیں بیچتے ہیں کیا یہ جائز ہے اور اس کی آمدنی حلال ہوگی ؟

Answer (beginning)

گوہر کا استعمال بہت پرانا ہے پہلے زمانے میں گوبر کو تھاپ کر اپلے بنائے جاتے تھے ۔ آج کل گوبر سے جو لکڑیاں بنائی جاتی ہیں وہ دراصل لکڑیاں نہیں ہوتیں بلکہ ہوتا یہ ہے کہ گوبر کو ایک مشین میں ڈالا جاتا ہے اور ایک خاص سائز میں وہ لمبائی کی صورت میں نکل آتا ہے اور اس کی موٹائی بھی سیٹ کر دی جاتی ہے اس طرح لانا لے جانا آسان ہو جاتا ہے اور جہاں دیگیں وغیرہ پکائی جاتی ہیں وہاں اسے لکڑیوں کے ساتھ جلا دیا جاتا ہے۔ گوبر یا گوبر سے بنے ہوئے اُپلے یا سوال میں جس لکڑی نما چیز کا ذکر ہے یہ سب بیچنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.