Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جھوٹا سرٹیفکیٹ بنواکر نوکری حاصل کرنا کیسا؟

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نویں جماعت تک پڑھا ہوا ہوں، مجھے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ریلوے میں نوکری نکلی ہے جس میں میٹرک کا سر ٹیفکیٹ بنوا کر نوکری حاصل کی جاسکتی ہے تو کیا میں میٹرک کے جھوٹے کاغذات بنوا کر وہ نوکری حاصل کر سکتا ہوں؟ نیز اگر کسی نے ایسا کر لیا تو مسلم یا غیر مسلم کمپنی میں اس طرح نوکری حاصل کر کے جو تنخواہ ملے گی وہ حلال ہو گی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

اگر آپ نے نویں جماعت تک پڑھا ہے اور کاغذات آپ دسویں جماعت تک کے بنوائیں گے اور آگے یہی ظاہر کریں گے کہ میں نے میٹرک کیا ہوا ہے تو یہ جھوٹ کے ساتھ ساتھ دھو کہ بھی ہو گا اور دھو کہ دینا، جائز نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں: ”غد ر ( دھو کہ) وبد عہدی مطلقاہر کافر سے بھی حرام ہے ۔ “ (فتاوی رضویہ، 348/17) لہذا آپ کا اس طرح جھوٹے کاغذات بنوا کر نوکری لینا جائز نہیں، البتہ اگر کسی نے ایسا کر لیا تو اگر چہ اس نے ایک ناجائز کام کیا لیکن جو تنخواہ ملے گی وہ کام کے بدلے ملے گی، اگر کام جائز ہے اور اس کام کو مطلوبہ اہلیت کے مطابق درست انجام دیتا ہے تو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.