Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
M 14389 Jumma Ki Pehli Azan Ke Baad Khawateen Ka Kharid O Farokht Karna
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینه اکتوبر 2026. دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ مرد حضرات کے لیے تو جمعہ کے وقت خرید و فروخت کرنا نا جائز ہے لیکن خواتین پر تو جمعہ نہیں ہوتا ان کے لیے اس کے وقت میں خرید و فروخت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب جن افراد پر نماز جمعہ فرض ہے ، ان کے لیے جمعہ کی پہلی اذان ہوتے ہی نماز جمعہ کے لیے سعی کرنا واجب ہے ۔ اس وقت خرید و فروخت اور ہر وہ کام جو سعی کے منافی ہو، ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.