Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صدقے کے علاوہ ایصال ثواب کرنا کیسا؟

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم صدقے کے علاوہ دیگر اعمال کا ثواب ایصال کرنے کا حکم ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا صدقہ کے علاوہ دیگر اعمال کا بھی ایصال ثواب ہو سکتا ہے ؟ جواب تمام نیک اعمال خواہ عبادات بدنیہ ہوں جیسے نماز، روزہ و تلاوت قرآن یا عبادات مالیہ ہوں جیسے زکوۃ و فطرہ وغیرہ ۔ ان سب کا ثواب زندہ یا مردہ کسی بھی مسلمان کو پہچانا، جائز و مستحسن ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : ”انه سأل رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم فقال يا رسول الله اذا نتصدق عن یعنی موتانا و نحج عنهم ندعو لهم فهل يصل ذلك اليهم؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.