Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ادھار سامان کی رقم وقت سے پہلے مانگنا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2026

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم ادھار بیچے ہوئے مال کی رقم وقت سے پہلے طلب کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنے ایک دوست کو چھ ماہ کے ادھار پر کچھ سامان فروخت کیا تھا لیکن ابھی چار ماہ ہی گزرے ہیں کہ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑ گئی، توکیا میں اس سے ادھار رقم کا فوری مطالبہ کر سکتا ہوں ؟ جواب صورت مسئولہ میں جب آپ نے ثمن (Price) کی ادائیگی کے لیے اپنے دوست کو معین مدت یعنی چھ ماہ کی مہلت دی اور اس نے بھی اس مہلت کو قبول کر لیا ، تو یہ دین (واجب الاداء رقم) میعادی ہو گیا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.