Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآنی آیات والے اخبارات بے وضو چھونا یا ردی میں بیچنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قرآنی آیات و احادیث پر مشتمل اخبارات بے وضو پڑھنا چھونا اور ان کو ردی میں بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اخبارات میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث و دینی باتیں بھی لکھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں بے وضو چھوتے پڑھتے ہیں اور پڑھنے کے بعد ادھر ادھر رکھ دیتے ہیں ۔ پھر جب کچھ اخبار میں جمع ہو جاتی ہیں، تو انہیں ردی میں بیچ دیتے ہیں۔ ان امور کے متعلق ضروری احتیاطوں کے بارے میں رہنمائی فرما دیجیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.