Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میسج سلام کا جواب لکھ کر دینا ضروری ہے؟

Answered by
مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدنی تاریخ اجراء : ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء
Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا ٹیکسٹ میسج کے سلام کا جواب لکھ کر دینا لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی کو ٹیکسٹ میسج کے ذریعے عربی یا اردو رسم الخط میں "السلام علیکم لکھ کر بھیجے، تو کیا اس کا تحریری طور پر وعلیکم السلام لکھ کر جواب دینا شر عالازم ہے ؟ جواب تحریری موصول ہونے والے سلام کا جواب تحریری طور پر لکھ کر ہی دینا واجب نہیں، بلکہ زبانی بھی دیا جا سکتا ہے ، اس سے بھی جواب دینے کا واجب ادا ہو جائے گا ۔ لیکن فور دیا جائے کہ سلام کے جواب میں تاخیر کی اجازت نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.