Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تکبیرِ قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانا کیسا؟

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ فروری 2026 علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم تکبیر قوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم /قنوت نازلہ کی وضاحت دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) اگر نمازی و ترکی تیسری رکعت میں تکبیر قوت کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے تو کیا اس کے وتر درست ہو جائیں گے ، یا اس پر وتر دہرانا ۔ ۔ یا ۔ ۔ سجدہ سہو کرنالازم ہوگا ؟ (2) نیز قنوت نازلہ کیا ہے ؟ اور کیا اس میں بھی تکبیر قوت کہتے وقت ہاتھوں کو اٹھائیں گے ؟ اس حوالے سے بھی رہنمائی فرمائیں ؟ جواب (1) وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قوت سے پہلے تکبیر قوت کہتے ہوئے ہاتھوں کو اٹھانا واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.