Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسلِ جنابت میں تاخیر سے رکھا گیا روزہ درست ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2025
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم روزہ اور غسل جنابت میں تاخیر کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے غسل فرض ہونے کی حالت میں روزہ رکھا اور عصر کے بعد غسل کیا، تو کیا اُس کا وہ روزہ ادا ہو گیا ؟ جواب حکم شرع ذہن نشین رہے کہ جس شخص پر غسل لازم ہو اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے اور اگر غسل کرنے میں اتنی دیر کر دی کہ نماز کا آخری وقت آگیا ، تو اب فور أنہا نا فرض ہے کہ اب تاخیر کی صورت میں گنہگار ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر اُس شخص نے بلاوجہ شرعی غسل میں اتنی تاخیر کی کہ معاذ اللہ نمازیں قضا ہوئیں تو اس صورت میں وہ شخص سخت…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.