Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تین چکروں میں اضطباع ترک کرنا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد باشم خان عطاری مدنی تاریخ اجراء : ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2025 علم الافتاء اهلسنت
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ نومبر 2025 علم الافتاء اهلسنت

Question

تین چکروں میں اضطباع کو ترک کرنے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ میں نے عمرے کا طواف کرتے ہوئے شروع کے تین چکروں میں داہنا کندھا کھلا رکھا بقیہ چار میں بغیر کسی عذر کے ڈھک لیا توکیا ایسا کرنا درست تھا ؟ اگر نہیں تو کیا اس صورت میں دم یا صدقہ و غیرہ لازم ہوں گے ؟ جواب

Answer (beginning)

شرعی اصول یہ ہے کہ جس طواف کے بعد سعی ہو اس کے تمام چکروں میں اضطباع سنت ہے، لہذا اگر کوئی طواف کے تمام یا بعض پھیروں میں بغیر کسی عذر کے اسے ترک کرے تو خلاف سنت و اساءت کا مرتکب ہے یعنی مستحق ملامت ہے ، اگر عذر ہو تو اب اساءت نہیں ، البتہ ان دونوں صورتوں ( یعنی عذرا یا بلاعذر اضطباع ترک کرنے ) کی وجہ سے دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا ۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کا جواب : مذکورہ اصول کی روشنی میں آپ کا بلا عذر چار چکروں میں اضطباع کو ترک کر نا خلاف سنت و برا عمل تھا، البتہ اس کی وجہ سے کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.