Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وطنِ اصلی سے مستقل منتقلی پر نماز کا حکم

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینه اکتوبر 2025. علم الافتاء اهلسنت

Question

وطن اصلی سے مستقل منتقلی پر نماز کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے آبائی شہر ملتان سے اپنے اہل و عیال سمیت لاہور شفٹ ہو گیا ہوں اور اب یہیں مستقل رہنے کی نیت کرلی ہے ، کہیں اور جانے کی نیت نہیں ، البتہ ملتان میں میری کچھ زمینیں اور گھر ہے ، اس لیے کبھی کبھار ملتان آنا جانا ہو گا ۔ تو کیا ملتان اب بھی میرا وطن اصلی ہے یا نہیں ؟ اور جب میں لاہور سے ملتان پندرہ دن سے کم رہنے کے ارادے سے جاؤں گا تو نماز قصر پڑھوں گا یا پوری پڑھوں گا ؟ نوٹ : سائل نے وضاحت کی کہ ملتان کو چھوڑنے کے عزم وارادہ سے لاہور منتقل ہوا ہوں ۔ جواب

Answer (beginning)

جب ایک جگہ آدمی کا وطن اصلی ہو اور وہ اسے ترک کرنے کے عزم وارادہ سے اپنے اہل و عیال سمیت کسی دوسری جگہ منتقل ہو جائے اور وہاں مستقل رہنے کی نیت کرلے، تو پہلی جگہ اس کے لیے وطن اصلی نہیں رہتی اگرچہ وہاں اس کی زمینیں اور گھر موجود ہو ۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ بھی اپنے اہل و عیال سمیت ملتان کو چھوڑنے کے عزم وارادہ ، مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے ہیں، لہذ المتان میں چاہے آپ کی زمینیں اور گھر موجود ہے تب بھی وہ آپ کا وطن اصلی نہ رہا اور جب آپ پندرہ دن سے کم رہنے کے ارادے سے ملتان جائیں گے تو نماز قصر پڑھیں گے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.