Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ولی نابالغ کو ہبہ کرے تو وہ قبضہ کے بغیر مالک ہوجاتا ہے

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینه اکتوبر 2025. علم الافتاء اهلسنت

Question

ولی نابالغ کو ہبہ کرے تو وہ قبضہ کے بغیر مالک ہو جاتا ہے دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس کچھ سونا موجود ہے ، میں نے اپنے بچوں کی امی سے کہا تھا کہ یہ سونا ہماری فلاں بچی کے لیے ہے ، لیکن اس کے قبضے میں نہیں دیا ، ابھی تک وہ میرے پاس ہی ہے اور وہ بچی بھی ابھی تک نابالغ ہی ہے ۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ وہ سونا بچی کی ملک ہو گیا یا نہیں ؟ اب میری بڑی بیٹی کی شادی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ سونا اس کو دے دوں ، تو کیا میں ایسا کر سکتا ہوں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں وہ سونا بچی کی ملک ہو گیا اور اب اس کی مالک وہ بچی ہی ہے ، لہذا اب نہ آپ کسی کو وہ سونا دے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ نا بالغ بچی خود کسی کو ہبہ کر سکتی ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے جو الفاظ کہے کہ "یہ سونا ہماری فلاں بچی کے لئے ہے “ یہ ہبہ کے الفاظ ہیں اور جب ولی (مثلاً باپ وغیرہ) نابالغ بچے کو کوئی چیز ہبہ کرے اور وہ چیز ولی ہی کے قبضہ میں ہو ، تو محض ایجاب کرنے سے ہبہ تام ہو جاتا ہے اور وہ چیز بچے کی ملک ہو جاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں ولی کا قبضہ نابالغ کی طرف سے بطور نیا بہت ہو تا ہے ، جو شرعاًبچے کا ہی قبضہ شمار کیا جاتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.