Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا انبیائے کرام سے بھی سوالاتِ قبر ہوں گے؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2025ء

Question

کیا انبیائے کرام سے بھی سوالات قبر ہوں گے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا انبیائے کرام علیہم السلام سے بھی سوالات قبر ہوتے رہے ہیں اور کیا ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بھی سوالات قبر ہوئے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

راجح قول کے مطابق ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم سمیت دوسرے کسی بھی نبی علیہ السلام سے سوالات قبر نہیں ہوئے ۔ جیسا کہ مسامرہ میں ہے : ” و الاصح ان الانبیاء علیهم الصلاة والسلام لا يسالون في قبورهم ولا اطفال المومنين اما الانبياء فلانه قد ورد ان بعض صالحى الامة يا من فتنة القبر بسبب عمل صالح۔۔۔ واذا ثبت هذا ذلک لبعض الامة فالانبياء عليهم الصلاة والسلام مع علوّ مقامهم المقطوع لهم بسببه بالسعادة العظمى ومع عصمتهم اولی بذلک یعنی زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ انبیاء اور مسلمانوں کے بچوں سے ان کی قبروں میں سوال نہیں کیا جائے گا انبیاء علیہم السلام سے تو اس لیے کہ جب امت کے کچھ نیک افراد…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.