Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت ”وَلَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى“ کی تفسیر

Answered by
مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2025

Question

آیت وَلَلْأُخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى “ کی تفسیر دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولى کا مطلب یہی ہے کہ تمہارا مستقبل تمہارے ماضی سے بہتر ہے ؟ کیا یہ ہر مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؟ اس آیت کی مکمل تفسیر بیان فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولی اور بیشک تمہارے لیے ہر پچھلی گھڑی پہلی سے بہتر ہے ۔ یہ آیت مبارکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے نازل ہوئی ، مفسرین کرام نے اس آیت کے متعدد معانی بیان کیے ہیں ۔ اس آیت کا ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ اسے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! بے شک تمہارے لیے آخرت دنیا سے بہتر ہے کیونکہ وہاں آپ کے لیے مقام محمود، حوض کوثر اور وہ بھلائی ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تمام انبیاء ورسل علیہم السلام پر مقدم ہونا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت کا تمام امتوں پر گواہ ہونا ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.