Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا والدہ بیٹے کے خرچے پر فرض حج کرسکتی ہے؟
- Answered by
- مفتی فضیل رضا عطاری
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2025ء
Question
کیا والدہ بیٹے کے خرچے پر فرض حج کر سکتی ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی والدہ کو حج پر اپنے ساتھ لے کر جارہے ہیں، حج کے تمام اخراجات بھائی ادا کریں گے ، ایسی صورت میں اگر میری والدہ حج کرتی ہیں، تو کیا بعد میں مالدار ہونے کی صورت میں ان پر دوبارہ حج فرض ہوگا یا نہیں ؟ راہنمائی فرمائیں ۔ جواب
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں اگر آپ کی والدہ فرض حج یا مطلق حج کی نیت سے حج ادا کرتی ہیں، تو ان کا فرض حج ادا ہو جائے گا اور بعد میں مالدار ہونے کی صورت میں ان پر حج فرض نہیں ہوگا ، کیونکہ اگر فقیر حج کرتا ہے اور اس میں وہ فرض حج یا مطلق حج کی نیت کرتا ہے تو اس کا فرض حج ادا ہو جائے گا اور آئندہ مالدار ہونے کی صورت میں اس پر دوبارہ حج فرض نہیں ہوگا، بلکہ فقیر کو ایسے موقع پر فرض حج کی ہی نیت کرنی چاہیئے کہ مکہ مکرمہ پہنچنے کی وجہ سے اس پر حج فرض ہو گیا ، پھر بھی اگر اس نے نفل کی نیت سے حج کیا، تو اس کا نفل حج ادا ہو جائے گا لیکن اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا ، اور اس میں بلاوجہ تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.