Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

Fqa 14370 Zakat Ki Raqam Se Stool Banwana

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی دار الافتاء اهاست
Fatwa no.
070-FatwaQA
Issued
14 ربیع الاول 1448ھ / 28 اگست 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم زکوۃ کے پیسوں سے ختم یا فوتگی کے لیے پیڑھیاں بنوانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوۃ کے پیسوں سے گاؤں میں ختم یا فوتگی کیلئے پیڑھیاں بنوا سکتے ہیں ؟ جواب زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک فقیر یعنی مستحق زکوۃ کو مالک بنانا شرط ہے، اور ختم یا فوتگی کیلئے پیڑھیاں (بیٹھنے کے لیے چھوٹے اسٹول) بنوا نے میں زکوۃ کے مال کا مالک بنا نا نہیں پایا جاتا، لہذا پیڑھیاں بنوانے کے لیے زکوۃ کی رقم کا استعمال کرنا ، جائز نہیں، اور اگر زکوۃ کے پیسوں سے پیڑھیاں بنوالیں، تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.