Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پہلے پیٹ پوجا بعد میں کام دوجا کہنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 066-FatwaQA
- Issued
- 05 ربيع الآخر 1447ھ / 18 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا، اس جملے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ " پہلے پیٹ پوجا بعد میں کام دو جا “ یہ جملہ کہنا کیسا؟ جواب یہ جملہ کہنا کفر نہیں، لہذا تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی لازم نہیں ، البتہ ایسا کہنے سے بچنا چاہیے ۔ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب " نامی کتاب میں ہے : "سوال : بعض اوقات کھانے کے لیے جاتے ہوئے کہہ دیا جاتا ہے : پیٹ پوجا کرنے جا رہا ہوں ۔ کیا یہ کفر نہیں ؟ جواب : کفر نہیں، البتہ ایسا کہنے سے بچنا چاہیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.