Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منیٰ میں قیام نہ کرنے کا کفارہ

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
059-FatwaQA
Issued
27 ربیع الاول 1448ھ /10 ستمبر 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مئی میں قیام نہ کرنے سے کفارہ لازم آئے گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے منی میں قیام نہ کیا تو کیا اس پر کفارہ لازم آئے جواب آٹھ ذوالحجۃ الحرام کا دن اور نویں کی رات پھر دس گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی راتیں مٹی میں گزارنا سنت مؤکدہ ہے ، اگر کسی نے مٹی میں قیام نہ کیا، تو ترک سنت کے سبب اساءت کا مرتکب اور ثواب عظیم سے محروم ہو گا، تاہم اس سبب سے اس پر کوئی کفارہ یعنی دم یا صدقہ وغیرہ لازم نہیں ہوگا، لہذا بلا عذر شرعی اس کو ہر گز نہیں چھوڑ نا چاہیے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.