Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نبی پاک ﷺ پر کوڑا پھینکنے والی روایت کی حقیقت
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 056-FatwaQA
- Issued
- 19 ربیع الاول 1448ھ /02 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا واقعی ایک عورت نبی پاک پر کوڑا پھینکتی تھی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا واقعی ایک عورت نبی پاک پر کوڑا پھینکتی تھی ؟ جواب یہ روایت بالکل موضوع (من گھڑت) ہے ۔ کتب حدیث ، کتب سیرت میں یہ روایت موجود نہیں، بلکہ علمائے کرام نے اس کے موضوع یعنی من گھڑت ہونے کو بیان فرمایا ہے، لہذا ایسی روایت بیان کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ، بلکہ جو بیان کرے گا وہ اس وعید کے تحت داخل ہو گا کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا : من كذب علي متعمداً فليتبوأ مقعدہ من النار۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.