Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کیلئے مکان وقف کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
034-FatwaQA
Issued
19 ربیع الاول 1448 / 01 اگست 2026

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم اپنا مکان مسجد کے لیے وقف کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنا مکان مسجد کے لیے وقف کرنا کیسا؟ جواب اگر کوئی شخص اپنا مملوکہ مکان مسجد پر وقف کرے تو یہ وقف جائز بلکہ عمدہ کار ثواب ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ میں ہے ”اذا تصدق بداره علی مسجد او على طريق المسلمين،تكلموا فيه والمختار أنه يجوز كالوقف کذا فی الذخيرة“ یعنی اپنے گھر کو کسی مسجد پر صدقہ کیا یا مسلمانوں کے راستے کیلئے صدقہ کیا تو اس میں فقہاء کو کلام ہے، البتہ مختار یہ ہے کہ یہ وقف کی طرح جائز ہے ، اسی طرح ذخیرہ میں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.