Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسوڑوں سے مسلسل خون آئے تو نماز کا حکم

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
031-FatwaQA
Issued
19 ربیع الاول 1448ھ /01 اگست 2026 ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسوڑھوں سے مسلسل خون آنے کی صورت میں نماز کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسوڑوں سے مسلسل خون آرہا ہو تو نماز کے لیے کیا کریں؟ جواب اگر یہ خون رک نہ رہا ہو، بلکہ مسلسل جاری رہے اور وضو کر کے فرض نماز ادا کرنے کا موقع نہ مل سکے تو ایسا شخص شرعی معذور ہے بشر طیکہ مسلسل یہی کیفیت نماز کے ابتدائی وقت سے لے کر وقت ختم ہونے تک رہے ۔ اگر نماز کا وقت شروع ہونے کے موقع پر تو ٹھیک تھا، بعد میں عذر لاحق ہوا تو اس نماز کے بعد جس نماز کا وقت آئے ، اس مکمل وقت میں بھی عذر پایا جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.