Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نل سے وضو میں انگلیوں کا خلال ضروری ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 015-FatwaQA
- Issued
- 11 ربیع الاول 1448ھ /24 اگست 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نل یا ٹونٹی سے وضو کرتے ہوئے انگلیوں کے خلال کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نل یا ٹونٹی کے نیچے ہاتھ پاؤں دھونے کی صورت میں بھی انگلیوں کا خلال کرنا ہوگا ؟ رہنمائی فرمائیں۔ جواب نل یا ٹونٹی سے نکلنے والے بہتے ہوئے پانی کے نیچے ہاتھ اور پاؤں رکھ کر دھوئے جائیں تو یہ دھونا ہی خلال کے قائم مقام ہو جائے گا اور صرف اسی دھونے سے ہی خلال کی سنت ادا ہو جائے گی، الگ سے خلال کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ نل سے نکلنے والا پانی بہتے اور جاری پانی کے حکم میں ہوتا ہے اور بہتے و جاری پانی میں ہاتھ پاؤں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.