Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو میں چہرہ دھونے کی حد

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم وضو میں چہرے کا کتنا حصہ دھونا لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں چہرہ دھونے کا کیا طریقہ ہے یعنی کہاں سے کہاں تک دھونا ضروری ہے؟ جواب وضو میں چہرہ دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ پورے چہرے کو اس طرح دھویا جائے کہ چہرے کی حدود کے اندر موجود ہر ہر حصے پر کم از کم دو قطر سے پانی بہہ جائے ، یہ فرض ہے ، چوڑائی میں چہرہ کی حد ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لوتیک ہے ، اس میں کان کی لو ( یعنی جس جگہ عام طور پر عورتیں بالیاں ڈالتی ہیں) چہرے کی حدود میں شامل نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.