Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کمپنی کی گاڑی کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا

Fatwa no.
126-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے پاس کمپنی کی گاڑی ہے اور میں فارغ اوقات میں فوڈ ڈلیوری کا کام کرنا چاہتا ہوں، تو کیا میں کمپنی کی گاڑی استعمال کر سکتا ہوں، جبکہ میں پٹرول اپنے ذاتی خرچے سے ڈلواؤں گا؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اگر وہ گاڑی کمپنی مالکان کی طرف سے صرف کمپنی کے کاموں کے لیے آپ کو دی گئی ہے (اور بظاہر یہی سمجھ آتا ہے کہ اسی لیے وہ گاڑی آپ کو دی گئی ہے) تو آپ کے لیے وہ گاڑی اپنے ذاتی کاموں کے لیے استعمال کرنا، جائز نہیں ہو گا، اگر چہ آپ گاڑی میں اپنے ذاتی خرچ سے پٹرول ڈلوائیں، کیونکہ کسی کی چیز بغیر اجازت اپنے ذاتی استعمال میں لانا، ناجائز و گناہ ہے۔ البتہ اگر مالک یا جسے مالک کی طرف سے کمپنی کی تمام باتوں یا اس طرح کی باتوں کا اختیار حاصل ہو ، تو اس کی اجازت سے آپ وہ گاڑی اپنے استعمال میں لانا چاہیں، تو لا سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.