Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رونے سے آنسو کے قطرے حلق میں جانے سے روزہ ٹوٹ جائیگا؟
- Fatwa no.
- 15
- Issued
- 07 رمضان المبارک 1442 / 20 اپریل 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ روزے کے دوران اگر قطرہ دو قطرہ آنسو منہ میں چلے گئے اور نمکینی پورے منہ میں محسوس ہوئی تو فقط اس نمکینی کے محسوس ہونے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا حلق سے نیچے اترنے پر ٹوٹے گا؟ بہار شریعت کی عبارت سے ایسا لگتا ہے کہ نمکینی پورے منہ میں محسوس ہونے سے ہی روزہ ٹوٹ جائے گا۔
Answer (beginning)
فقط آنسو کی نمکینی پورے منہ میں پھیل جانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، بلکہ روزہ ٹوٹنے کا حکم پورے منہ میں محسوس ہونے والی اس نمکین رطوبت کے حلق سے نیچے اترنے کی صورت میں ہے۔ کتب فقہ و فتاوی میں حلق سے نیچے اترنے کی صورت ہی میں روزے کاٹو ٹن بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے : ” الدموع اذا دخلت فم الصائم ان كان قليلا كالقطرة والقطرتين او نحوها لا يفسد صومه وان كان كثير احتى وجد ملوحته في جميع فمه، واجتمع شيء ء کثیر فابتلعه يفسد صومه،وكذاعرق الوجه اذادخل فم الصائم كذا في الخلاصة“ یعنی آنسو روزہ دار کے منہ میں گئے اگر قلیل مقدار میں تھے مثلاً ایک دو قطرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر کثیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.