Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کی کھال مسجد کو دینا کیسا؟

Answer (beginning)

فتاوی امجدیہ میں ہے: ” چرم قربانی مسجد میں صرف کر سکتا ہے، یو نہی بیچ کر اس کی قیمت سے مسجد کی مرمت کرنا یا لوٹا وغیرہ سامانِ مسجد خرید نا، جائز ہے، جبکہ اس کی نیت سے بیچا ہو ، یا متولی مسجد کو چھڑا دیدیا، کہ اس نے بیچ کر ان چیزوں میں صرف کیا ہو ( یہ جائز ہے) ۔ (فتاوی امجدیہ، حصہ 3، صفحہ 307، مکتبه رضویه، آرام باغ، کراچی) (۲) قربانی کی کھالوں میں کسی فقیر شرعی کو مالک بنانا ضروری نہیں، کہ تملیک فقیر زکوۃ اور بعض صدقات واجبہ میں شرط ہے، ہر صدقہ واجبہ میں بھی لازم نہیں ، جیسے کفارہ صیام و ظہار و یمین میں ، کہ ان کا کھانا کھلانے میں اباحت کافی ہے، جبکہ کھال کو صدقہ کرنا واجب بھی نہیں، ایک نفلی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.