Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کی کھال امام مسجد کو دینا کیسا؟

Fatwa no.
178-Book
Issued
16 ربیع الثانی 1438ھ / 15 جنوری 2017ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کے امام صاحب تنخواہ لیتے ہیں اور صاحب نصاب بھی ہیں، اس حالت میں ان کو قربانی کی کھال دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

مسجد کے امام کو قربانی کی کھالیں تنخواہ یا اجرت کے طور پر براہ راست نہ دی جائیں، البتہ اگر کھالیں تنخواہ اور اجرت کے طور پر نہ ہوں، بلکہ امام کو ہدیہ کے طور پر دی جائیں، تو جائز ہے، اگر چہ امام مسجد سے تنخواہ لیتا ہو اور خود صاحب نصاب ہو ، اسی طرح اگر کھالیں مسجد میں دی جائیں اور متولی مسجد وہ کھالیں بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی رقم امام صاحب کو تنخواہ کے طور پر دے، تو یہ تنخواہ دینا بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.