Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تنخواہ لینے والے امام کو قربانی کی کھالیں دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 177-Book
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام مسجد ہیں جو خود صاحب نصاب ہیں، وہ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ اور نماز جنازہ بغیر کسی اجرت یا تنخواہ کے پڑھاتے ہیں اور مسجد میں آنے والے بچوں کو ناظرہ بھی مفت میں پڑھاتے ہیں، البتہ عیدین کے موقع پر تقریباً تین چار ہزار روپیہ ان کو دیا جاتا ہے، یہ امام صاحب تقریباً پچھلے پندرہ سال سے یہ خدمت کر رہے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ان امام صاحب کو قربانی کی کھالیں دی جاسکتی ہیں یا نہیں ؟ شرعاً اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
امام کو قربانی کی کھالیں تنخواہ یا اجرت کے طور پر دینا تو جائز نہیں، البتہ اگر کھالیں تنخواہ اور اجرت کے طور پر نہ ہوں ، بلکہ امام کو ہدیہ کے طور پر دی جائیں یا مسجد میں دی جائیں اور متولی مسجد وہ کھالیں بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی ر قم امام صاحب کو سالانہ وظیفہ کے طور پر دے جیسا کہ سوال میں بیان ہے ، تو جائز ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ” قربانی کی کھال امام مسجد کو دینا جائز ہے، اگر وہ فقیر ہو اور بطور صدقہ دیں یا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیں، لیکن اگر اس کی اجرت اور تنخواہ میں دیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں، اگر وہ اپنا نو کر ہے، تو اس کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.