Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 175-Book
- Issued
- 102 ربیع الثانی 1441ھ / 30 نومبر 2019 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتادیں کہ ہمارے ہاں جو غیر مسلم ہیں وہ ذمی ہیں یا حربی ؟ سائل: بلال رضاعطاری (کھاریاں، گجرات)
Answer (beginning)
غیر مسلم کو قربانی کا گوشت نہیں دینا چاہیے کہ قربانی شعار اسلام اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ، جسے لینے دینے کا تعلق بھی عابدین مسلمین یعنی خدا کو تنہا معبود ماننے والوں اور اس عبادت کو مسلمانوں تک پہنچانے والے سچے نبی صلی اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم کے ماننے والوں کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ جہاں تک ہمارے ملک کے غیر مسلموں کا تعلق ہے کہ ذمی ہیں یا حربی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ذمی وہ کافر ہو تا ہے، جو اسلامی حکومت کو جزیہ دیتا ہو۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ” الذمي الذي يؤدى الجزية “ ترجمہ : ذمی وہ کافر ہے، جو ( اسلامی حکومت کو) جزیہ دیتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.